Saturday, 16 April 2016

Encounter Specialist Naveed Saeed Gujjar



پولیس مقابلوں کا ماہر اور بیسیوں افراد کو ہلاک کرنے والا کروڑ پتی برطانوی شہریت کا حامل انسپکٹر نوید سعید چند مرلے
زمین کے جھگڑے میں اپنے ساتھیوں سمیت موت کے گھاٹ اتر گیا۔انڈر ورلڈ کے ٹاپ ٹین کو پولیس مقابلوں میں شوٹ کرنے سے نہ صرف اسے لاہور پولیس کی تاریخ اور مجرموں کے خلاف جنگ میں اہم باب کی حیثیت ملی بلکہ وہ پنجاب پولیس کا ہیرو بن گیا۔ نوید سعید کی شہرت میں اس وقت زیادہ اضافہ ہو ا جب اس نے محلاتی سازشوں کا کردار بن کر پاکستان پیپلز پارٹی کے ایم پی اے سلیمان تاثیر کو پنجاب اسمبلی سے گرفتار کیا اور مزاحمت پر تھپڑ مارے اور سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے شوہر سینٹر آصف علی زرداری سے جسٹس نظام قتل کیس میں تفتیش کرنے کراچی پہنچا اور دوران تفتیش آصف زرداری کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا جس سے نہ صرف گردن پر زخم آئے بلکہ زبان کٹ گئی اور مار مار کر مبینہ طور پر بے ہوش کر دیا۔کبڈی کے کھلاڑی کے کوٹے پر بھرتی ہونے والا اسٹنٹ سب انسپکٹر اپنی بے باکی اورجرات کی وجہ سے جلد ہی اس وقت کے حکومتی ایوانوں میں داخل ہو گیا اور ان کی سیاسی شطرنج کی کھیل کا کھلاڑی بن گیا۔تقریباً 20سالہ پولیس ملازمت میں متعدد بار ملازمت سے معطل ہونے اور اپنے اثر ورسوخ سے بحال ہونے والا اور 12اکتوبر1999کو صدر پاکستان اور اس وقت کے چیف آف آرمی سٹاف جنرل پرویز مشرف کو کراچی میں گرفتارکرنے کیلئے لاہور سے جانے والے خصوصی سکواڈ کی قیادت کرنے والا آخر کار نیب کے مقدمے سے بھی بچ نکلا مگر کروڑوں کی جائیداد اور دولت کا مالک ہو نے کے باوجود مزید دولت کی ہوس میںبرطانیہ سے واپس آتے ہی لینڈ مافیا میں شمولیت اختیار کر لی اور چند ماہ بعد ہی موت کے منہ میں چلا گیا ۔پنجاب پولیس کا انسپکٹر نوید سعید جہلم کے رہائشی ریٹائرڈ صوبیدار محمد سعید کا بیٹا تھا ۔وہ گیارہ بہن بھائی تھے اور ان کا تعلق وہاں کی مشہور گجر برادری سے تھا ۔جنہوں نے ابتدائی تعلیم دلوانے کے بعد نوید سعید کو لاہور بھیج دیا اور اس نے1982میں عارف ہائی سکول دھرم پورہ لاہور سے میٹرک کا امتحان سیکنڈ ڈویژن میں پاس کیا اور بعد ازاں پرائیویٹ ایف اے کرنے کے بعد پولیس میں ملازمت اختیار کر لی ۔ میجرمحمد اکرم لاہورپولیس کے اس وقت سربراہ تھے جن کی نوید سعید سے عزیز داری تھی انھوں نے اس وقت کے اے آئی جی منیر ڈار سے سفارش کی اور کبڈی کے کھلاڑی کے کوٹے پر نوید سعید کو 1984میں اے ایس آئی بھرتی کروا دیا۔زیر تربیت تھانیدار کی حیثیت سے اس کی پہلی پوسٹنگ ضلع قصور میں ہوئی جو اس وقت لاہور رینج کا ہی حصہ تھا پھر وہ تربیت کیلئے سہالہ چلا گیا ان دنوں محمد اکرم گجر تھانہ مصطفےٰ آباد میں ایس ایچ او تھا ۔ جو نوید سعید پر خاص شفقت کیا کرتا تھا ۔پولیس میں بھرتی کا شوق بھی نوید سعید کو انسپکٹر محمد اکرم گجرنے ڈالا تھا۔ اسی دوران پنجاب پولیس کی کبڈی ٹیم صوبائی چیمپئین شپ جیت گئی جس پر زیر تربیت تھانیدار نوید سعید کو براہ راست سب انسپکٹر کے عہدے پر ترقی مل گئی اور وہ قصور سے تبدیل ہو کر شاہین فورس لاہور میں آگیا ۔ تو اس کی ڈیوٹی جاوید شاہ ،اسلم ساہی مرحوم اور عمر سلیم چیمہ جیسے مشہور پولیس افسران کے ساتھ لگ گئی ۔سابق آئی جی سندھ اور ایس ایس پی لاہور رانا مقبول احمد کے دور میں نوید سعید لاہور کے اہم تھانوں میں تعینات رہا ۔
یہ ایک مضبوط جسم کا دلیر پولیس افسر تھا اور اس وقت کے مشہور بدمعاش ،ڈکیت ، اشتہاری اور ٹاپ ٹین اس سے خوفزدہ رہتے تھے۔مشہور زمانہ دہشت کی علامت ملنگی ، ناجی بٹ ،اغوا اور کرائے کے قاتل ٹاپ ٹین میں شامل ہمایوں گجر،میاں داﺅد ،ثنا ، حنیف عرف حنیفا ، شفیق بابا اور اجرتی قاتل بھولا سنیارہ کو بھی نوید سعید نے پولیس مقابلوں میں ہلاک کیا تھا۔ اگرچہ بعد میں نوید سعید کی بعض ٹاپ ٹین سے دوستیاں ہو گئیں اور اس نے ٹاپ ٹین میں شامل لاہور کے حنیف عرف حنیفا اور اس کے بھائی شفیق بابا کے ساتھ دوبئی میں ہوٹلنگ کے کاروبار میں شراکت داری بھی کر لی ۔لاہورمیں اپنی شروع کی ملازمت کے دوران نوید سعید کا ایک مقامی گروہ سے معمولی بات پر جھگڑا ہو گیا تو نوید سعید نے اپنے ایک ساتھی کے ہمراہ انھیں خوب مارا جس کے بعد اسے پہلوان کا لقب مل گیا کبڈی کا کھلاڑی وہ پہلے سے ہی تھا ۔ پولیس میں بھرتی ہونے کے بعد ترقی اور دولت دونوں ہی نوید سعید پر عاشق ہو گئے ۔نوید سعید پولیس مقابلوں کے بانی ڈی آئی جی رانا مقبول احمد کے قرابت دار ہونے کی وجہ سے ان کے بہت قریب رہا اور ان کے ہی دور میں اپنے پہلے شکار ٹاپ ٹین ملنگی کو مارا۔ملنگی نامی مجرم سے نہ صرف عوام بلکہ پولیس والے خود بھی خوفزدہ رہتے اوراسے گرفتار کرنے سے ہچکچاتے جب کسی بھی پولیس افسر نے اسے گرفتار کرنے کی حامی نہ بھری تو نوید سعید نے اسے گرفتار کرنے کا بیڑا اٹھایا چنانچہ جب ملنگی کو نوید سعید نے پولیس مقابلے میں ہلاک کر دیا تو اسے پولیس ڈیپارٹمنٹ میں ہیرو کی حیثیت مل گئی جبکہ علاقے کے لوگوں نے بھی نوید سعید کی جرات کو سراہا۔اس واقع کے بعد نوید سعید نے لاہور میںباقاعدہ تھانیداری کرنی شروع کر دی اور سرکاری ملازمت کے ساتھ پراپرٹی کا کاروبار بھی شروع کر دیا اور دیکھتے ہی دیکھتے کروڑپتی بن گیا اس کی پولیس میں شہرت امیر ترین پولیس آفیسر کے طور پر تھی۔اسی دوران ایک لڑائی کے بعد مخالف فریق نے ایس ایس پی لاہور کو نوید سعید کے خلاف درخواست دی اور انکوائری کے بعد نوید سعید ملازمت سے برخاست ہو گیا یہ نوید سعید کی ملازمت سے پہلی برخواستگی تھی ۔1986 میںچند ہی ماہ بعد وہ ملازمت پر دوبارہ بحال ہو گیا اور بطور سب انسپکٹر ایس ایچ او تھانہ کاہنہ تعینات ہوا۔ پھر لاہور کے تمام بڑے تھانوں فیکٹری ایریا ، ہنجروال ، نولکھا ، شالیمار ، باٹا پور ، ٹبی ،راوی روڈ ، شفیق آباد ، اقبال ٹاﺅن ، شاہدرہ سمیت متعد د تھانوں میں بطور ایس ایچ او لگا ررہا وہ جہاں چاہتا اور جس تھانے میں چاہتا اپنی تعیناتی کروا لیتا تھا بلکہ اپنے دیگر قریبی دوستوں اور ساتھیوں کو بھی ان کے من پسند تھانوں میں تعیناتی کروادیتا تھااپنے دیگر ہم عصر پولیس ملازمین کی نسبت نوید سعید جلد ترقی پاتا رہا۔ دوران سروس وہ بڑے بڑے افسران کو بہت عزیز رہا خصوصاً سابق آئی جی سندھ رانا مقبول ،سابق ڈی آئی جی لاہور میجر محمد اکرم ، سابق آئی جی پنجاب پولیس حاجی حبیب الرحمن ،سابق ایس پی سٹی لاہور عمر سلیم چیمہ سمیت کئی افسروں کے ساتھ نوید سعید کے ذاتی تعلقات تھے ۔نوید سعید نے لاہور میں اپنے ماموں کی بیٹی کے ساتھ شادی کی جو برطانوی شہریت کی حامل تھی اس کے دو بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں ۔چھوٹا بیٹا قاسم پیدائشی بیمار ہے اس کے جسم پر نکلنے والے دانے نوید سعید کےلئے خاصی پریشانی کا باعث بنے رہے وہ اکثر اس کو جلد کے ممتازماہرین کے پاس لےجایا کرتا تھا اور بیرون ملک علاج بھی کرواتا رہا ۔ لاہور سمیت پنجاب کی بعض معروف اور بااثر سیاسی شخصیات کے ساتھ نوید سعید کا گہرا تعلق رہا ۔جبکہ صوبائی دارلحکومت لاہور میںجرائم کی دنیا کے ٹاپ ٹین میاں داﺅد ناصر ، ثنا گجر ، ناجی بٹ ، شفیق عرف بابا ، حنیف عرف حنیفا ، بھولا سنیارا ، ہمایوں گجر ، مقصود کالی ، شہباز عرف شہبازا، وحید عرف وحیدیاں وغیرہ نوید کے ساتھ کسی نہ کسی طرح رابطے میں رہے۔یہ تقریباً تمام لوگ اب مارے جا چکے ہیں اور ان میں سے بیشتر نویدسعید کے ہاتھوں ہی اپنے انجام کو پہنچے ان جرائم پیشہ افراد میں سے سب سے دلچسپ کہانی دونوں اشتہاری مجرم بھائیوں حنیف عرف حنیفا اور شفیق عرف بابا کی ہے جو اندرون شہر لاہور کے رہنے والے تھے ۔انھیں جرائم کی دنیا کا بے تاج بادشاہ کہا جاتا تھا ۔بڑے بڑے مجرم ان کے نام سے گھبراتے تھے ۔جب شہباز شریف پنجاب کے وزیر اعلیٰ تھے تو اندرون شہر لاہور کے بعض شہریوں نے ان سے شکایت کی کہ یہ دونوں ٹاپ ٹین بھائی یہاں کے لوگوں کو حراساں کرتے ہیںاور انسپکٹر نوید سعید ان کی پشت پناہی کرتا ہے تو انھوں نے نوید سعید کو بلا کر اسے سختی سے کہا کہ مجھے یہ دونوں بھائی حنیف عرف حنیفا اور شفیق بابا زندہ یا مردہ درکار ہیںجس پر نوید سعید نے ذاتی طور پر دونوں بھائیوں سے دوبئی میں رابطہ کیا اورپاکستان بلایا اور کراچی کے ایک ہوٹل میں ٹھہرنے کو کہا۔حنیف عرف حنیفا اپنے دیگر ساتھیوں داﺅد ،کالی اور ثناءکے ہمراہ جب ہوٹل میں موجود تھا توانسپکٹر نوید سعید نے ان سب کو گرفتار کر لیا اور لاہور لے آیا اور انھیں پولیس لائن قلعہ گوجر سنگھ میں ایس پی مجاہد سلیم چیمہ کے پاس لے گیا جبکہ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ نوید سعید انھیں تھانہ شاہدرہ کے ایس ایچ او رانا فاروق کے پاس لے گیا ۔بہر حال اگلے روز ٹاپ ٹین اور ان کے ساتھی پولیس مقابلوں میں ہلاک ہو گئے اگرچہ اس وقت نوید سعید پولیس پارٹی میں شامل نہیں تھا۔ شفیق بابا نے نوید سعید کو دھمکی دی کہ اس نے بھائی بن کر مارا ہے اور اعتماد میں لے کر ایسا کچھ کیا ہے مگر نوید سعید نے قسم اٹھا کر اسے یقین دلانے کی کوشش کی کہ حنیف عرف حنیفا کی پولیس مقابلے میں ہونے والی موت میں اسکا کوئی ہاتھ نہیں مگر شفیق بابا نے اس کی بات پر یقین نہ کیا اور نوید سعید کو مارنے کی قسم کھائی چنانچہ شفیق بابا نے نوید سعید کو مروانے کی کئی بار کوشش کی مگر وہ کامیاب نہ ہوسکا ۔آخر کارسابق آئی جی سندھ پولیس رانا مقبول نے شفیق بابا کا فون ٹریس کر کے اس کے پاکستان آنے کے بارے میں معلومات حاصل کر لیں اور تب ایک دوست کے ذریعے اسے کراچی بلا یا اور ساتھی لڈا سمیت لاہور پولیس کے ہاتھوں گرفتار کروا دیا۔ شفیق بابا کو موقع پر ہی پولیس نے مقابلے میں مار دیا۔حنیف عرف حنیفااور شفیق بابا کے والد مستری تایا عیدو نے لاہور ہائی کورٹ میں نوید سعید اور دیگر کے خلاف جعلی پولیس مقابلوں میں اپنے بیٹوں کو ہلاک کرنے کی بابت لاہور ہائی کورٹ میں رٹ دائر کر دی مگر بعد میں کچھ ہی عرصے بعد تایا عیدہ پراسرار طور پر غائب ہو گیا جس کا آج تک کوئی سراغ نہیں مل سکا ۔اس کے بارے میں بھی کہا جاتا ہے کہ تایا عیدہ کو اغوا کر کے ہلاک کروانے میں نوید سعید کا ہاتھ تھا ۔ انسپکٹر نوید سعید پنجاب پولیس کا ایک ایسا انسپکٹر تھا کہ جسے صوبائی دارلحکومت کی تاریخ ، جرائم اور مجرموں کے خلاف جنگ کے ایک اہم باب کی حیثیت حاصل تھی اس کی شہرت ایک دلیر ، جرات مند ،نڈر اور جری تھانیدار کی تھی جبکہ اعلیٰ پولیس افسران کو تما م ماتحتوں کی طرف سے کسی بڑے جرم پر ہاتھ ڈالنے سے معذرت کا جواب مل جاتا تو نوید سعید ان کا آخری انتخاب ہواکرتا تھا کیونکہ اپنی جان پر کھیل کر اعلیٰ حکام کے احکامات کی تعمیل کرنا اسکاپسندیدہ مشغلہ تھا ۔اسے جس مجرم اور جس مقام پر چھاپہ مارنے کا حکم ملتا تونوید سعید اس کا انجام سوچے بغیر وہاں پہنچ جاتا تھا اور کر گزرتا تھا۔وہ جرائم پیشہ افراد کی آنکھوں میں آنکھیں اور ہاتھ میں ہاتھ ڈالنے کا فن جانتا تھا مجرم تک پہنچنے کیلئے نوید سعید نے انوکھا طریقہ اپنا رکھا تھا پہلے وہ ان مجرموں سے تعلقات استوار کرتا تھا اور پھر انھیں قانون کے شکنجے میں جکڑ لیتا۔ اس کو پولیس مقابلوں کا ماہر بھی کہا جاتا تھا۔اور جن خطرناک اشتہاری مجرموں پر کوئی دوسرا پولیس والا ہاتھ ڈالتے ہوئے گھبراتا یا جن ملزموں کے نام سے پولیس والوں کی ٹانگیں کانپتی تھیں تو وہ نوید سعید کے حوالے کر دیے جاتے تھے ۔ سرزمین پنجاب بالخصوص لاہور پر ٹاپ ٹین کا تمغہ سجائے پھرنے والے سبھی مجرموں میں سے بیشتر کا خاتمہ نوید سعید کے ہاتھوں ہی ہوا۔ بعض رپورٹوں کے مطابق نوید سعید نے دوران ملازمت تقریباً100افراد ہلاک کئے۔ اس کے خلاف جعلی پولیس مقابلوں کے متعدد پرچے بھی درج ہوئے جبکہ درجنوں جوڈیشنل انکوئریاں اب بھی زیر التو ہیں ۔ بعض افراد کے مطابق وہ خود بھی اس امر کا اقرار کرتا تھا کہ میری موت قتل کی صورت میں ہو گی۔ اس امر کا یقیننوید سعید کو اس لئے تھا کہ اس نے پولیس انسپکٹر ہونے کے ساتھ ساتھ ذاتی دشمنیاں بھی پال رکھی تھیں اور دوران ملازمت سرکاری امور کی انجام دہی بھی اس نے اس انداز سے کی کہ وہ ذاتی مخالف میں تبدیل ہو گئی بہرحال اس کی جرات اور بہادری کی وجہ سے وہ جلد ہی سیاسی ایوانوں میں بھی پہچانا جانے لگا تو اس وقت کی حکومت نے اس سے اپنے کام لینے شروع کر دیے اور سیاسی حریفوں کو پولیس کے ذریعے حراساں کرنے کیلئے اکثر نوید سعید کی خدمات حاصل کی جاتی اس طرح کبڈی کا کھلاڑی حکومتی اور سیاسی شطرنج کی کھیل کا مہرہ بن گیا ۔انسپکٹر نوید سعید اس وقت اخبارات کی زینت زیادہ بنا کہ جب پنجاب اسمبلی سے پاکستان پیپلز پارٹی کے ایم پی اے سلیمان تاثیر کو گرفتار کرنے کی کوشش کی اور مزاحمت پر انھیں تھپڑ رسید کیا۔اگرچہ اس واقعہ کا اخبارات میں بہت چرچا رہا چنانچہ حکومت نے وقتی طور پر اسے معطل کر دیا مگر بعد ازاں پھر بحال ہو گیا ۔سابق وزیر اعظم نواز شریف کے دور میں جب سابق وزیر اعظم بے نظیر بٹھو کے شوہر آصف علی زرداری جسٹس نظام قتل کیس میں کراچی پولیس کی تحویل میں تھے تو لاہور سے انسپکٹر نوید سعید تفتیش کرنے کراچی گیا تھا جہاں پر متعدد رپورٹوں کے مطابق آصف علی زرداری کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا اور نوید سعید نے سابق آئی جی سندھ پولیس رانا مقبول احمد کی موجودگی میں گلاس توڑ کرمارا جس سے آصف علی زرداری کی گردن زخمی ہو گئی اور زبان کٹ گئی اور متعدد جگہوں پر ضربات آئیں اور انھیں بے ہوشی کے عالم میں آغا خان ہسپتال لے جایا گیا ۔ جس پر ان کی ہمشیرہ نے سندھ ہائی کورٹ میں رٹ دائر کی جبکہ اس بارے میں سندھ پولیس کا کہنا تھا کہ آصف علی زردار ی نے خودکشی کرنے کی کوشش کی ۔
انسپکٹر نوید سعید کی بے باکی کا یہ عالم تھا کہ ایک مرتبہ ڈی آئی جی شاہد حسن نے اس کے خلاف ایک درخواست پر انکوائری ایس پی میجر مبشر حسن کو مارک کر دی جس پر نوید سعید نے بہت احتجاج کیا اور انکوائری واپس لینے کو کہا مگر ڈی آئی جی نے میجر مبشر سے انکوائری واپس نہ لی تو نوید سعید ایک تقریب میں اس وقت کے وزیر اعلیٰ میاں منظوراحمد وٹو کے سامنے پیش ہو گیا اوراپنے خلاف ہونے والی انکوائری پر شور ڈالا اور اپنی بیلٹ اتار کر وزیر اعلیٰ کے سامنے پھینک دی اور دونوں پولیس افسران کے خلاف نازیبا گفتگو کی جس پر اسے فوری طور پر ملازمت سے برطرف کر دیا گیا مگر یہ اپنے اثر ورسوخ کی وجہ سے جلد ہی پھر ملازمت پر بحال ہو گیا۔جبکہ ٹھوکر نیاز بیگ میں ایک مذہبی تنظیم کے خلاف آپریشن میں بھی نوید سعید نے اہم کردار ادا کیا تھا۔ نوید سعید لاہور پولیس کے افسران کا ایک چہیتا پولیس ملازم تھا جو ان کے احکامات کی ادائیگی کیلئے آخری حدیں بھی پار کر جاتا تھاجس کی وجہ سے یہ ان افسران کی نظر میں ایک اہم مقام رکھتا تھا ۔ اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ دوستوں کا دوست تھا اور ان کے مسائل حل کروانے کیلئے کوئی کسر نہ اٹھا رکھتا۔ جبکہ نوید سعید کے بارے میں مبینہ طور پر یہ بھی کہا جاتا ہے کہ مخالف فریقوں سے کسی بھی شخص کو پولیس مقابلے میں قتل کرنے کے عوض کروڑوں روپے لیا کرتا تھا۔ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے ایک سابق کونسلر کو مارنے کے عوض نوید سعید نے 25ملین روپے وصول کیے تھے جبکہ لاہور میں ہی ایک پارٹی نے اپنے مخالف کی ہلاکت پر انسپکٹر نوید سعید کی تاج پوشی کی تھی۔نوید سعید نواز شریف حکومت میں اتنا اہمیت رکھتا تھا کہ بعض ملکی سطح کے اہم معاملات میں بھی کردار ادا کرتا تھا ۔نوید سعید کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ جب نواز شریف حکومت نے اس وقت کے چیف آف آرمی سٹاف اور موجودہ صدر پاکستان جنرل پرویز مشرف کو 12اکتوبر1999کو سری لنکا سے واپسی پر کراچی میں گرفتار کرنے کا پروگرام بنایا تو آئی جی سندھ پولیس رانا مقبول احمدنے اس کام کیلئے خاص طور پر لاہور سے انسپکٹر نوید سعید کی قیادت میں سکواڈ طلب کیا تھا۔
نوید سعید سے متعلق ایک اور دلچسپ واقع بیان کرتے ہوئے ایک شخص نے بتایا کہ نوید سعید پی ٹی وی کا ڈرامہ خواجہ اینڈ سنز بڑے شوق سے دیکھا کرتا تھا اور اس کی مرکزی کردار ثمینہ خالد کا بڑا فین تھا۔ اتفاق سے مذکورہ اداکارہ کے گھر کے صحن میں ایک کرایے کا قاتل پرویز عرف پیجا قتل ہو گیا جس کا الزام پولیس پر لگا کہ انھوں نے اسے پکڑ کر قتل کیا ہے۔اس ملزم کے بارے میں بتایا گیا تھا کہ اسے تھانہ بی ڈویژن شیخوپورہ کے ایس ایچ او نے گرفتار کیا تھا جو ان دنوں لاہور رینج کا حصہ تھااور ڈی آئی جی لاہور شوکت جاوید لاہور رینج پولیس کے سربراہ تھے۔کہا جاتا ہے کہ نوید سعید نے ڈی آئی جی سے درخواست کی کہ یہ ملزم پرویز عرف پیجا میرے حوالے کر دیںکیونکہ اس کے خلاف میرے تھانے میں بھی متعدد مقدمات درج ہیں۔ڈی آئی جی لاہور نے اس کی درخواست پر کہا کہ ملزم پیجا کو تم اپنے پاس لے آﺅ۔لیکن نوید سعید کے بعض قریبی ساتھیوں کا کہنا تھاکہ ڈی آئی جی نے تھانہ بی ڈویژن کے ایس ایچ او کو حکم بھیجاتھا کہ ملزم پرویز عرف پیجا کو نوید سعید کے حوالے کرو۔بہر حال بعد ازاں یہ ملزم مارا گیا تو یہ بات اڑ گئی کہ نوید سعید نے اداکارہ ثمینہ خالد کے گھر لے جا کر ملزم پیجا کو ہلاک کیا تھا لیکن اس امر کی تصدیق کھبی بھی نہیں ہو سکی۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ کرایے کے قاتل شہباز عرف شہبازا ،پپلی گورایہ والا، شہباز عرف شہبازو،جوڑا جنہیں کسی اور پولیس افسر نے پولیس مقابلے میں ہلاک کیا تھا ۔ نوید سعید کافی عرصے تک ان کے تعاقب میں رہا جبکہ گلو گجر کے مقتول بھائی کے قتل کا الزام بھی نوید پر لگا۔مگر یہ ثابت نہ ہو سکا ۔نوید سعید جب ایس ایچ او شاہدرہ تعینات تھے تو وہاں کسی لڑکی کے ساتھ بد اخلاقی کا واقع پیش آیااور نوید سعید نے ملزموں کو گرفتار کر لیا تب وزیر اعظم میاں نواز شریف موقع پر گئے اور فوری انصاف کی یقین دہانی کروائی چنانچہ بعد ازاں یہ ملزم بھی پولیس مقابلے میں ہلاک ہو گئے۔
انسپکٹر نوید سعید نے اپنی ملازمت کی زندگی بہت کھٹن طریقے سے بسر کی اس کے اپنے اقدامات کی وجہ سے بہت سے اس کی جان کے دشمن بن چکے تھے جو ہر لمحے اس کی جان کے درپے رہتے متعدد بار اس پر قاتلانہ حملے اور ایک مرتبہ لاہور میں ایک پولیس مقابلے میں ایک ٹاپ ٹین مجرم نے گرنیڈوں سے نوید سعید پر حملہ کر دیا اس موقع پر تمام افراد فرار ہو گئے مگر نوید سعید ڈٹا رہا اور بال بال بچ گیا ۔ ان حالات میں اس کی سکیورٹی کا یہ عالم ہوتا تھا کہ جب انسپکٹر نوید سعید گھر سے باہر جاتا تو اس کے ہمراہ تیس تیس گن مین بطور گارڈ کے ہوتے جن میں کچھ پولیس ملازمین کے علاوہ دیگر سب اس کے قریبی احباب اور ساتھی ہوتے۔ بڑی بڑی اور قیمتی کاروں کے جلوہ میں تیس مسلح افراد کے ساتھ سفر کرتے ہوئے اس کو نہ جاننے والے عام شہری اس کو رشک بھری نگاہوں سے دیکھتے تھے۔
نوید سعید پولیس میں ملازمت کرنے کے ساتھ ساتھ پراپرٹی کا کاروبار بھی کرتا تھا اور جس کی وجہ سے اس نے بے تہاشہ دولت کمائی چنانچہ اس کے خلاف ناجائز اثاثہ جات کے الزام میں 2000میں نیب میں ریفرنس دائر ہوا اور اسکا نام ای سی ایل ( ایگزٹ کنٹرول لسٹ )میں درج ہو گیا تو نوید سعید بذریعہ ٹرین کوئٹہ سے ایران چلا گیا اور وہاں سے دوبئی اور پھر لندن چلا گیا۔اس کے پاس برطانیہ کا ریڈ پاسپورٹ بھی تھا ۔نیب کی عدالت میں اس کی عدم حاضری کی وجہ سے مقدمہ کا یکطرفہ فیصلہ ہو گیا اور نوید سعید کو تین برس قیدکی سزا ہو گئی مگر اس نے لندن سے ہی اپنا اثرورسوخ استعمال کرتے ہوئے نیب میں پلی بار گیننگ کے تحت زیر دفعہ 9(سی)آف نیب ایکٹ درخواست دی جو منظور ہو گئی اور مورخہ 19جنوری 2005کو ریفرنس نمبر 1/C/2005 سے بری ہو گیا اور مقدمہ واپس لے لیا گیا۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ دوران مفروری یہ دو تین مرتبہ لاہور بھی آیا۔جبکہ برطانیہ میں قیام کے دوران اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر شو آرگنائزڈ کرواتا رہا ۔ بری ہونے کے بعد وہ پاکستان آگیا اورملازمت پر بحال ہونے کیلئے سروس ٹربیونل میں درخواست گزار دی اور جوہر ٹاﺅن میں رہائش اختیار کر لی ۔اس کی دلیری اور اثرورسوخ کی وجہ سے لینڈ مافیا نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا چنانچہ اس نے پراپرٹی کاکام دوبارہ شروع کر دیا اورفیصل ٹاﺅن کے رہائشی وحید بٹ کے ساتھ شراکت داری کر لی۔ برطانیہ سے آنے سے تقریباً تین سال قبل سے ہی وحید بٹ کی رائے ونڈ روڈ پر شاہ بابا عرف شانو اور اسکے بیٹوں بابر اور ندیم کے ساتھ شراکت پر کاروبار کرتا تھا ۔شانو بابا پراپرٹی کے کام میں ارب پتی پارٹی سمجھی جاتی ہے ۔ چند ماہ قبل ہی وحید بٹ کا ندیم اور بابر وغیرہ سے جھگڑا ہو گیا اور شراکت داری ختم ہو گئی مگر ایک پلاٹ پر تنازعہ پیدا ہو گیا ۔ یہ پلاٹ رائے ونڈ روڈ پر واقع تھا جسکا رقبہ 10کنال تھا جو بابر ، ندیم اور وحید بٹ نے تقریباً 250ملین روپے میں خریدا تھا جبکہ ان لوگوں کی شراکت داری ختم ہو گئی تو اس پلاٹ میں سے 8کنال بابر اور ندیم کے پاس آگئے جبکہ 2کنال وحید بٹ کے پاس آئے جس میں سے بعد میں وحید بٹ نے ایک کنال نوید سعید کو دے دیا۔ نوید سعید نے اس موقع پر خود درمیان میں بیٹھ کر وحید بٹ اور ندیم وغیرہ میں صلح کروادی اور پلاٹ وحید بٹ کے نام ہو گیا مگر چند ہی دن بعدگذشتہ جمعرات کو بابر وغیرہ نے اس پلاٹ پر قبضہ کر لیا ۔جب اس قبضے کی اطلاع وحید بٹ کو ملی تو وہ نوید سعید کے پاس آیا اسے ساری بات بتلائی جس پر نوید سعید وحید بٹ ،مقصود احمدعرف پٹھانے خان ، ناصر خان ، مناں کھادی ، لڈو اور ظہیر بٹ کے ہمراہ وحید بٹ کی گاڑی میں سوار اپنے گن مینوں احمد علی ، نصیر ، ولایت وغیرہ کے ہمراہ رائے ونڈ روڈ پر متنازعہ پلاٹ پر پہنچا تو دیکھا کہ وہاں پربابر اور ندیم پارٹی کے افراد موجود تھے اور پلاٹ پر کام جاری تھا چنانچہ کام جاری دیکھ کر نوید سعید نے تھانہ چوہنگ سے پولیس کو طلب کر لیا اور انھیں بتایا کہ یہ لوگ قبضہ گروپ سے تعلق رکھتے ہیں اور یہ پلاٹ میری ملکیت ہے چنانچہ نویس سعید کے بیان پرپولیس نے وہاں موجود ٹھیکیدار اور مزدوروں اور بابا کے آدمیوں کو گرفتار کرلیا ۔جبکہ مزدوروں کو بعد ازاں رہا بھی کروا دیا ۔ایس ایچ او ذولفقار بٹ نے اس موقع پر دونوں پارٹیوں کو تھانے میں آنے کو کہا مگر نوید سعید نے کہا کہ ہم دوسری پارٹی سے خود ہی بات کر لیں گے جس پر پولیس وہاں سے چلی گئی اس کے بعد نوید سعیدوغیرہ اپنی گاڑیوں میں بیٹھ کر واپسی کا پروگرام بنا رہے تھے جبکہ اس کے گن میں بھی اسلحہ کاروں میں رکھنے میں مصروف تھے اور آپس میں بات چیت کر رہے تھے کہ ندیم بابا اپنے بھائی ، بابر ، ساتھی انجم بٹ ،انجم اور خواجہ فاروق کے ہمراہ وہاں کار میں آئے جنہوں نے کار سے نکلتے ہی نوید سعید کو گالیاں نکالی شروع کر دیں اور کہا کہ آج ہم تمھاری پہلوانی نکال دیں گے اور انھوں نے آتشین اسلح سے ان پر فائرنگ شروع کر دی اور برسٹ مار کر چاروں کو چھلنی کر دیا۔ عینی شاہدین کے مطابق نوید سعید وغیرہ پر مخالفین نے تقریباً200گولیاں برسائیں ۔نوید سعید اور وحید بٹ کے چہروں پر گولیاں لگیں جس کے بعد ندیم وغیرہ اپنا کام کر کے موقع سے فرار ہو گئے۔ نوید سعید کے گن مین جب اس کے قریب پہنچے تو نوید سعید موقع پر ہی ہلاک ہو چکا تھا جبکہ دیگر کو ہسپتال لے جایا گیا تو ممتاز بختاور ہسپتال میں وحید بٹ کی موت کی تصدیق ہو گئی اور میو ہسپتال پہنچ کر مقصود احمد عرف پٹھانے خان کی موت کی تصدیق ہو گئی ۔ فائرنگ کی اطلاع ملتے ہی پولیس کے اعلیٰ حکام موقع پر پہنچ گئے مگر کوئی ملزم بھی گرفتار نہ ہو سکا ۔ تھانہ ستو کتلہ پولیس نے نوید سعید کے بھائی جاوید سعید کی بیان پر پراپرٹی ڈیلر محمد اشرف عرف شانو بابا ،اسکے دو بیٹوں بابر بابا اور نوید بابا، خواجہ فاروق اور ندیم چوہان کے خلاف زیر دفعہ 302ت پ مقدمہ درج کر لیا ہے ۔پولیس نے ملزموں کی گرفتاری کیلئے ملزمان کے گھروں پر چھاپے مارے جو اپنے گھروں کو تالے لگا کر پہلے ہی اپنی فیملیوں کے ہمراہ فرار ہو چکے تھے جبکہ بعض رپورٹوں کے مطابق پولیس نے اس تہرے قتل کے ملزموں کو گرفتار کر لیا ہے اور کسی بھی موقع پر انھیں منظر عام پر لے آیا جائے گا ۔
انسپکٹر نوید سعید کے قتل کی اطلاع جنگل کی آگ کی شہر میں پھیلتے ہی اس کے دوست احباب اور پولیس ملازمین میو ہسپتال پہنچ گئے۔پولیس افسران و اہلکار ایک دوسرے کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر روتے رہے جبکہ بعض پولیس اہلکاروں نے کہا کہ استاد نوید پہلوان کی موت کا بدلہ ہم لیں گے اس موقع پر میڈیا کے نمائند ے اور فوٹو گرافر بھی موجود تھے ۔اس واقعے کا دوسرا مقتول وحید بٹ پانچ بچوں کا باپ فیصل ٹاﺅن لاہور کا رہائشی تھا جو ٹائروں کا کام کرتا تھا مگر بعد ازاں پراپرٹی کا کام شروع کر دیا اور کچھ ہی عرصے میں کروڑ پتی ہوتا چلا گیا۔یہ انسپکٹر نوید سعید کا قریبی دوست تھا اور اسے اسکی مکمل پشت پناہی حاصل تھی ۔جب نوید سعید تھانہ راوی روڈ میں تعینات تھا تب اس کی دوستی وحید بٹ سے ہوئی تھی جبکہ تیسرا مقتول سید پور سبزہ زار کا رہائشی رہائشی مقصود احمد عرف پٹھانے خان تھا یہ بھی پانچ بچوں کا باپ تھا اور ڈیوٹی فری شاپ میں منی چینجر کا کام کرتا تھا اور بعد میں نوید سعید کے ساتھ دوستی ہو گئی۔نوید سعید نے اسے اپنا بھائی بنا رکھا تھا اور اس پر بڑا اعتماد کرتا تھا۔نوید سعید جہاں پر بھی جاتا پٹھانے خان اس کے ہمراہ جاتا تھا۔جبکہ دوسری طرف حنیف عرف حنیفا اور شفیق عرف بابا کے بھائی اور دیگر خاندان کے لوگوں نے انروں شہر میں مٹھائی تقسیم کی اور خوشیاں منائی گئی۔
ہمارے معاشرے میں ایسے بہت سے کردار موجود ہیں کہ جنہوں نے کسی نہ کسی شعبے میں نام پیدا کیا ہے جن لوگوں نے بنی نوع انسانوں کیلئے اور ان کی بھلائی کیلئے اچھے اچھے کیے ان کا نام آج بھی پہچانا جاتا ہے جبکہ ایسے بھی بہت سے کرادر موجود ہیں کہ جنہوں نے برے کاموں میں شہرت کمائی اور دولت اور جائیداد کی ہوس میں اچھے برے کی تمیز بھلادی ۔بدقسمتی سے یہی دولت اور جائیداد ان کی دشمن بن جاتی ہے اور انھیں استعمال کرنا بھی نصیب نہ ہوتااور مزید دولت ، شہرت اور جائیداد کی طلب میں موت کے منہ میں چلے گئے۔جبکہ اپنی حدوں کو کراس کروانے لوگوں کی روحیں زندگی کی حدیں کراس کر جاتی ہیں۔

Monday, 11 April 2016

Waris ludhanvi Gujjar poet

ﻭﺍﺭﺙ ﻟﺪﮬﯿﺎﻧﻮﯼ ﮐﯽ ﭘﯿﺪﺍﺋﺶ
Apr 11, 1928
ﭘﻨﺠﺎﺑﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﮐﮯ ﻣﻌﺮﻭﻑ ﺷﺎﻋﺮ ﺍﻭﺭ ﻧﻐﻤﮧ ﻧﮕﺎﺭ ﻭﺍﺭﺙ ﻟﺪﮬﯿﺎﻧﻮﯼ ﮐﺎ ﺍﺻﻞ
ﻧﺎﻡ ﭼﻮﮨﺪﺭﯼ ﻣﺤﻤﺪ ﺍﺳﻤﺎﻋﯿﻞ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ 11 ﺍﭘﺮﯾﻞ 1928ﺀ ﮐﻮ ﻟﺪﮬﯿﺎﻧﮧ
ﻣﯿﮟ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺍﺑﺘﺪﺍ ﻣﯿﮟ ﻋﺎﺟﺰ ﺗﺨﻠﺺ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﭘﮭﺮ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﺩﺍﻣﻦ
ﮐﮯ ﺷﺎﮔﺮﺩ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﺍﺭﺙ ﺗﺨﻠﺺ ﮐﺮﻟﯿﺎ۔
ﺍﺳﺘﺎﺩ ﺩﺍﻣﻦ ﮐﯽ ﺷﺎﮔﺮﺩﯼ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﺭﺩﻭﮐﯽ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﻣﮑﻤﻞ ﭘﻨﺠﺎﺑﯽ
ﺷﺎﻋﺮﯼ ﭘﺮ ﺗﻮﺟﮧ ﺩﯼ
ﺍﺑﺘﺪﺍ ﮨﯽ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺮﮮ ﮔﯿﺖ ﮨﭧ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ ۔ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺍﭘﻨﺎ ﮔﯿﺖ ؎ ﭘﮭﮑﯽ ﭘﮯ
ﮔﺌﯽ ﭼﻨﺎﮞ ﺗﺎﺭﯾﺎﮞ ﺩﯼ ﻟﻮﺀ ﺗﻮﮞ ﺍﺟﮯ ﻭﯼ ﻧﮧ ﺍٓﯾﻮﮞ ﺳﺠﻨﺎﮞ ﺑﮩﺖ ﭘﺴﻨﺪ ﺗﮭﺎ
ﺍﻥ ﮐﯽ ﭘﮩﻠﯽ ﻓﻠﻢ ’’ ﺷﮩﺮﯼ ﺑﺎﺑﻮ ‘‘ ﺗﮭﯽ۔ ﺟﺲ ﮐﺎ ﯾﮧ ﮔﯿﺖ ﺯﺑﯿﺪﮦ ﺧﺎﻧﻢ ﮐﯽ
ﺍٓﻭﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﮨﻮﺍ ؎ ﺍﮎ ﻣﻨﮉﮮ ﺩﯼ ﭼﯿﺰ ﮔﻮﺍﭼﯽ ﺑﮭﻞ ﮐﮯ ﭼﯿﺘﺎ
ﺍٓﻭﮮ ﮔﺎ ﻭﺍﺭﺙ ﻟﺪﮬﯿﺎﻧﻮﯼ ﻧﮯ ﮐﺌﯽ ﻓﻠﻤﻮﮞ ﮐﮯ ﮔﯿﺖ ﺍﻭ ﺭ ﺳﮑﺮﭘﭧ ﺗﺤﺮﯾﺮ
ﮐﯿﮯ ﺍﻥ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﮔﯿﺖ ﺷﺎﺩﯼ ﺑﯿﺎﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻟﮍﮐﯿﺎ ﮞ ﺍٓﺝ ﺑﮭﯽ ﺷﻮﻕ ﺳﮯ
ﮔﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ ؎ ﺩﯾﺴﺎ ﮞ ﺩﺍ ﺭﺍﺟﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﺎﺑﻞ ﺩﺍ ﭘﯿﺎﺭﺍ ﺍﻣﺒﮍﯼ ﺩﮮ ﺩﻝ ﺩﺍ
ﺳﮩﺎﺭﺍ ﻧﯽ ﻭﯾﺮ ﻣﯿﺮﺍ ﮔﮭﻮﮌﯼ ﭼﮍﮬﯿﺎﻧﯽ ﺳﯿﻮ ﮔﮭﻮﮌﯼ ﭼﮍﮬﯿﺎ ﻓﻠﻢ ﮐﺮﺗﺎ ﺭ
ﺳﻨﮕﮫ ﮐﺎ ﯾﮧ ﮔﺎﻧﺎ ﺍٓﺝ ﺑﮭﯽ ﺳﭙﺮ ﮨﭧ ﮔﺎﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺷﻤﺎﺭ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ۔ﺍﻥ ﮐﮯ
ﺷﺎﮨﮑﺎﺭ ﮔﯿﺘﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺩﻻﭨﮭﮩﺮ ﺟﺎ ﯾﺎﺭ ﺩﺍ ﻧﻈﺎﺭﺍ ﻟﯿﻦ ﺩﮮ ( ﻣﻨﯿﺮ ﺣﺴﯿﻦ ،ﺯﺑﯿﺪﮦ
ﺧﺎﻧﻢ ) ؎ ﻣﯿﺮﺍ ﺩﻝ ﭼﻨﺎ ﮐﭻ ﺩﺍ ﮐﮭﮉﻭﻧﺎ ( ﺯﺑﯿﺪﮦ ﺧﺎﻧﻢ ) ؎ ﺳﺎﻧﻮﮞ ﻭﯼ ﻟﮯ
ﭼﻞ ﻧﺎﻝ ﻭﮮ ،ﺑﺎﺋﻮ ﺳﻮﮨﻨﯽ ﮔﮉﯼ ﻭﺍﻟﯿﺎ ( ﻧﺴﯿﻢ ﺑﯿﮕﻢ ) ؎ﺟﮭﺎﻧﺠﺮﯾﺎﭘﮩﻨﺎ ﺩﻭ
(ﻣﻠﮑﮧ ﺗﺮﻧﻢ ﻧﻮﺭ ﺟﮩﺎﮞ ) ﻭﺍﺭﺙ ﻟﺪﮬﯿﺎﻧﻮﯼ ﻧﮯ ﺟﻦ ﯾﺎﺩ ﮔﺎﺭ ﻓﻠﻤﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ
ﺷﺎﮨﮑﺎﺭ ﮔﯿﺖ ﺗﺨﻠﯿﻖ ﮐﯿﮯ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﻣﭩﯽ ﺩﯾﺎ ﮞ ﻣﻮﺭﺗﺎﮞ ، ﺑﺎﺟﯽ ، ﺑﺪﻟﮧ،
ﺷﯿﺮ ﺧﺎﻥ، ﭘﮕﮍﯼ ﺳﻨﺒﮭﺎﻝ ﺟﭩﺎ، ﺭﻧﮕﯿﻼ، ﺷﻌﻠﮯ، ﻣﻔﺮﻭﺭ ، ﺭﻭﭨﯽ ، ﺣﮑﻮﻣﺖ
، ﻣﮑﮭﮍﺍ، ﺩﻭ ﺭﻧﮕﯿﻠﮯ ﺍﻭﺭ ﺩﯾﮕﺮ ﻓﻠﻤﯽ ﺷﺎﻣﻞ ﮨﯿﮟ۔ﺍﻥ ﮐﮯ ﭼﻨﺪ ﻣﺸﮩﻮﺭ
ﮔﯿﺘﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﻮﻝ ﺍٓﭖ ﮐﯽ ﺩﻟﭽﺴﭙﯽ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺣﺎﺿﺮ ﮨﯿﮟ۔ ؎ ﻭﮮ ﻣﯿﮟ ﺩﻝ
ﺗﯿﺮﮮ ﻗﺪﻣﺎﮞ ﭺ ﺭﮐﮭﯿﺎ ؎ ﻭﮮ ﺳﺐ ﺗﻮ ﮞ ﺳﻮﮨﻨﯿﺎﮞ ،ﮨﺎﺋﮯ ﻭﮮ ﻣﻦ
ﻣﻮﮨﻨﯿﺎﮞ ؎ ﺩﻻﮞ ﺩﯾﺎﮞ ﻣﯿﻠﯿﺎﮞ ﻧﮯ ﭼﻦ ﺟﯿﺎﮞ ﺻﻮﺭﺗﺎﮞ ؎ ﮔﻮﺭﯼ ﮔﻮﺭﯼ
ﭼﺎﻧﺪﻧﯽ ،ﭨﮭﻨﮉﯼ ﭨﮭﻨﮉﯼ ﭼﮭﺎﮞ ﻧﯽ ؎ ﭼﻨﺎ ﺗﯿﺮﯼ ﯾﺎﺩ ﻭﭺ ؎ ﭼﻦ ﭼﻦ ﺩﮮ
ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺍٓﮔﯿﺎ ﻭﺍﺭﺙ ﻟﺪﮬﯿﺎﻧﻮﯼ ﻧﮯ ﺟﻦ ﻣﻤﺘﺎﺯ ﻣﻮﺳﯿﻘﺎﺭﻭﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﺎﻡ
ﮐﯿﺎ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﺑﺎ ﺟﯽ ﺍﮮ ﭼﺸﺘﯽ،ﻣﺎﺳﭩﺮ ﻋﻨﺎﯾﺖ ، ﺭﺷﯿﺪ ﻋﻄﺮﮮ ،ﺻﻔﺪﺭ
ﺣﺴﯿﻦ، ﻃﺎﻓﻮ،ﻃﻔﯿﻞ ﻓﺎﺭﻭﻗﯽ ﺍﻭﺭ ﻧﺬﯾﺮ ﻋﻠﯽ ﺷﺎﻣﻞ ﮨﯿﮟ ۔ﺍﻧﮩﻮﮞﻨﮯ ﺗﻘﺮﯾﺒﺎ
ﺗﯿﺲ ﺑﺮﺱ ﺳﮯ ﺯﺍﺋﺪ ﻓﻠﻤﯽ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﺻﻼﺣﯿﺘﻮﮞ ﮐﺎ ﻟﻮﮨﺎ ﻣﻨﻮﺍﯾﺎ۔
5 ﺳﺘﻤﺒﺮ 1992 ﺩﻝ ﮐﺎ ﺩﻭﺭﮦ ﭘﮍ ﻧﮯ ﺳﮯ ﺍٓﭖ ﺍﺱ ﺟﮩﺎﻥ ِﻓﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﮐﻮﭺ
ﮐﺮ ﮔﺌﮯ ﺗﮭﮯ

Wednesday, 23 March 2016

راجپوت



راجپوت
جس کے معنی راجاؤں کے بیٹے کے ہیں اور وہ اپنا سلسلہ نسب دیو مالائی شخصیات سے جوڑتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی ابتدا اور اصلیت کے بارے میں بہت سے نظریات قائم کئے گئے ہیں۔ ایشوری پرشاد کا کہنا ہے کہ وہ ویدک دور کے چھتری ہیں۔ بعض کا کہنا ہے کہ یہ سیھتن اور ہن حملہ آوروں میں سے بعض رجپوتانہ میں مقیم ہوگئے تھے اور انہوں نے اور گونڈوں اور بھاروں کے ساتھ برہمنی مذہب کو قبول کرکے فوجی طاقت حاصل کر لی تھی۔ مسٹر سی وی ویدیا کا کہنا ہے کہ پرتھی راج راسا کے مصنف چندر برائے نے راجپوتوں کو سورج بنسی اور چندر بنسی ثابت کرنے سے عاجز آکر ایک نئے نظریہ کے تحت ان کو ’اگنی کل‘ قرار دیا تھا۔ یعنی وہ آگ کے خاندان سے ہیں اور وششٹ نے جو قربانی کی آگ روشن کی تھی۔ اس سے راجپوتوں کا مورث اعلیٰ پیدا ہوا تھا۔ لیکن اب بعض فاضل ہندؤں نے اس شاعرانہ فسانے سے انکار کیا ہے اور زیادہ تر حضرات کا خیال ہے کہ راجپوت قوم کی رگوں میں غیر ملکی خون ہے۔ ٹاڈ نے اپنی مشہور کتاب ’تاریخ راجستان‘ میں اسی نظریے کی تائید کی ہے اور راجپوتوں کو وسط ایشیا کے ستھین قبائل کا قریبی قرار دیا ہے۔ جمز ٹاڈ کا کہنا ہے کہ عہد قدیم سے محمود غزنوی کے دور تک بہت سی اقوام ہند پر حملہ آور ہوئیں وہ راجپوتوں کے چھتیس راج کلی میں شامل ہیں۔ اہم کی بات یہ ہے ان کے دیوتا، ان کے شجرہ نسب، ان کے قدیم نام اور بہت سے حالات واطوار چین، تاتار، مغل، جٹ اور ستھیوں سے بہت زیادہ مشابہہ ہیں۔ اس لئے باآسانی اندازہ ہوتا کہ راجپوت اور بالاالذکر اقوام ایک ہی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔
راجپوتوں کا عنقا مسلم علاقوں میں

ساتویں صدی عیسویں میں ہیونگ تسانگ نے راجپوت کا کلمہ استعمال نہیں کیا۔ عرب حملوں کے زمانے (آٹھویں سے گیارویں صدی عیسوی) کے حوالے سے بدھ پرکاش لکھتا ہے کہ لفظ کشتری کم دیکھنے میں آتا ہے اور راجپوت کی اصلاح عام نہیں ہوئی تھی۔ ڈاکٹر پی سرن کے مطابق لفظ راجپوت نسلی معنوں میں دسویں صدی عیسویں تک استعمال نہیں ہوا۔ حتیٰ کہ ٹھاکر کی اصطلاح جو مسلم مورخین نے اپنی تحریر میں چند بار استعمال کی ہے ایک قبیلہ کے بارے میں ہے۔ رائے قبیلہ ایران میں بہت پہلے سے موجود تھا۔ پہلے پہل محمد بن قاسم نے رانگی (رانا) کا خطاب ایک جاٹ کو عطا کیا تھا۔ راوت کا کلمہ روٹھ یا روٹ یا ڑاٹ سے بنا۔ اس کا مطلب مشرقی ایران میں بادشاہ کے ہیں۔ واضح رہے کہ راجپوت کا کلمہ ساتویں صدی سے پہلے کہیں دیکھائی دیتا ہے۔ غالباً اس کا قدیم تریں تلفظ ہن فاتح ٹورامن کے کرا کتبہ میں ملتا ہے۔ اس میں اس کے بیٹوں اور بیٹیوں کو راج پتر کہا گیا ہے۔ اس کا مطلب ہے اس کلمہ کو لغوی معنوں میں (بادشاہ کی اولاد) میں استعمال کیا گیا، جو کہ ایرانی کلمہ وس پوہر (بادشاہ کا بیٹا) کے مترادف ہے۔ وس سنسکرت میں بھی بادشاہ کے معنوں میں آتا ہے اور پوہر سنسکرت کے پتر کا مترادف ہے لیکن ساتویں صدی عیسویں سے اس کی جگہ راجہ استعمال ہورہا ہے۔ چنانچہ جب شنکر اچاریہ کے تحت کٹر برہمن مت کا احیا ہوا تو راجہ پتر کا لفظ استعمال ہوا۔ کلہانا نے راج ترنگی میں راجپوتوں واضح انداز میں غیر ملکی، مغرور، بہادر اور وفادار کہا گیا ہے یہ محض فرضی آرا نہیں ہے کسی مسلمان مورخ نے پنجاب، سندھ، بلوچستان، مکران، کیاکان، افغانستان، غزنی اور کشمیر کی لڑائیوں میں راجپوتوں کا ذکر نہیں کیا ہے۔
راجپوتوں کا ارتقاء

ابو الغازی نے تاتاریوں اور مغل اقوام کے نسل وہ نسب کی روایتیں بیان کی ہیں۔ وہی روایتیں پرانوں میں آئی ہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ مغل و تاتار کے مورث اعلیٰ کا نام پشنہ تھا اور اس کے بیٹے کا نام اوغوز تھا۔ اوغوز کے چھے فرزند تھے۔ بڑے بیٹے کا نام کین یعنی سورج تھا۔ دوسرے بیٹے کا نام آیو یعنی چاند تھا۔ تاتاریوں کا دعویٰ ہے کہ وہ آیو یعنی چاند کی نسل سے ہیں۔ آیو کا بیٹا جلدس تھا۔ جلدس کا بیٹا ہیو تھا۔ جس سے شاہان چین کی نسل ہوئی ہے۔ ایلخان جو آیو کی چھٹی پشت پر تھا اس کے دوبیٹے تھے۔ ایک خان دوسران ناگس۔ ناگس اولاد نے تاتار کو آباد کیا۔ چنگیز خان کا دعویٰ تھا کہ وہ خان کی نسل سے ہے۔ ناگس غالباً تکش یا سانپ کی نسل ہے۔ افغانستان اور شمالی مغربی علاقے قدیم زمانے میں ہندوستان سے ملحق رہا ہے اور یہ علاقہ عہد قدیم میں ہندو تہذیب کے بڑے مرکزوں میں سے تھا۔ بھارت ورش کے زمانے میں یہ گندھارا کہلاتا تھا۔ کابل، گندھار (قندھار) اور سیستان اکثر سیاسی حثیت سے ہندوستان کا حصہ رہے ہیں۔ پارتھی عہد میں ان مقامات کو سفید ہند کہا جاتا تھا۔ اس علاقہ کی پرانی عمارات اور خانقاہوں کے کھنڈرات اس کی تائید کرتے ہیں۔ خصوصاً ٹیکسلہ کی عظیم انشان یونیورسٹی کے آثار جس کی شہرت آج سے دوہزار سال پہلے اپنے عروج پر تھی۔ اس زمانے جو بھی فاتح ہند پر حملہ آور ہوتا تھا تھوڑے عرصے میں اس کا شمار چھتریوں میں ہونے لگتا تھا۔ سکوں کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلے حکمران کا نام غیر ملکی ہے۔ لیکن بیٹے یا پوتے کا نام سنسکرت میں ہے اور اس کی تخت نشینی یا تاج پوشی چھتری رسوم کے مطابق ہوتی تھی۔ راجپوتوں کے اکثر قبیلوں کا سلسلہ نسب سک یا سیتھی حملہ آوروں سے تھا یا وہ سفید ہن قوم کے حملہ آوروں میں سے تھے۔ یہی زمانہ تھا کہ باہرسے حملہ آور اقوام ہندو معاشرے میں داخل ہورہی تھیں اور ہندو تہذیب اختیار کررہی تھیں۔ ان حملہ آوروں کو گوترا عطا کرنے میں مقامی پنڈت سبقت لے جانے کی کوشش کررہے تھے۔ اس طرح وہ ہندو تہذیب کی ترقی کی پوری کوشش کررہے تھے۔ چنانچہ وشنو، شیوا، چندی اور سوریہ وغیر کے ادیان بہت پھیل گئے۔ اس سے نہ صرف برہمنی مذہب نہ صرف اپنے عروج پر پہنچا۔ بلکہ بدھ مذہب کو سخت صدمہ پہنچا اور وہ برصغیر کو خیرباد کہنے پرمجبور ہوگیا۔ اس طرح راجپوتوں نے برہمنوں کے ساتھ مل ہندو دھرم کو ارسر نو زندہ کیا اور بدھوں کو تہس نہس کردیا۔ سک، پہلو یون اور ترشک جو وسط ایشیا کی مشہور قومیں تھیں اور وہ ہند پر حملہ آور ہوکر ہندو مذہب میں داخل کر راجپوت کہلائیں۔ ولسن کا کہنا ہے کہ راجپوت قبائل راٹھور، پوار، اور گہلوٹ وغیرہ یہاں پہلے سے آباد تھے۔ یہ چاروں قبائل اصل میں جاٹ ہیں جنہیں بعد میں راجپوت کہا جانے لگا ہے۔ کیوں کے یہ اس وقت حکمران تھے۔ اس بناء پر راجپوت یا راج پتر یعنی راجاؤں کی اولاد کی اصطلاح وجود میں آئی۔ اس کی اصل پہلوی کلمہ وسپوہر (شاہ کا بیٹا) سے ہے۔ ولسن انہیں غیر ملکی تسلیم کرتا ہے۔ کیوں کہ ان لوگوں نے ساکا اور دیگر قبائل کے ساتھ مل کر برصغیر کی تسخیر کی تھی۔ راجپوت رسمی طور پر برہمنی مذہب میں داخل ہونے والے جاٹ اور گوجر ہیں جن لوگوں نے رسمی طور پر متصب برہمنی نظام کی شرائط اور قبول کرنے سے انکار کیا انہیں رسمی طور پر ہندو مذہب میں داخل نہیں کیا گیا اور وہ آج تک وہی جاٹ، گوجر اور آہیر ہیں۔ یہی وجہ ہے جاتوں اور راجپوتوں مشترک قبائلی نام ہیں۔ ان لوگوں کو اپنے مقصد کے پیش نظر وششتھاؤں نے راجستان میں کوہ آبو میں ایک قربانی کی آگ کا اہتمام کیا اور بہت سے نوادر لوگوں کو اس آگ کے ذریعہ پاک کیا۔ ان لوگوں کو راج پتر (بادشاہوں کی اولاد) کا نام دیا گیا جو وہ پہلے ہی تھے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ ایران بالخصوص سیستان میں بڑے زمیندار وس پوہر بادشاہوں کی اولاد کہلاتے تھے۔ برصغیر کی اصطلاح راج پتر کا ایرانی کلمہ کا ترجمہ ہے۔ قانون گو کا کہنا غلط ہے کہ اس سرزمین پر ابتدائی قابض جاٹوں کی جگہ نوادار راجپوتوں نے لی۔ قانون گو نے اس بات کو فراموش کردیا کہ پوار (پنوار)، تنوار، بھٹی، جوئیہ وغیرہ جاٹوں اور راجپوتوں دونوں میں پائے جاتے ہیں۔ جاٹوں کی جگہ راجپوتوں نے اس لی کہ کہ برہمنوں نے موخر الذکر کے خلاف بھڑکایا۔ کیوں کہ راجپوت تھوڑا عرصہ پہلے ہندو مذہب میں آئے تھے۔ برہمنوں نے راجپوتوں کو اعلیٰ مقام دیا، ان کی تعریف میں قصائص لکھے اور انہیں رام ارجن (سورج اور چندر بنسی) سے جا ملایا۔ اس کے بدلے راجپوتوں نے پھر پور ’وکشنا‘ اور ’اگر ہارا‘ دیے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ برصغیر میں فاتح کی آمد پر جاٹوں کو براہمنی نظام میں مدغم کرنے کی سوچی سمجھی کوششیں کی گئی۔ غیر ملکی ساکا کو ہندو سماج کا حصہ بنانے کی غرض سے مشہور ’ورانا سٹوما‘ کی رسوم گھڑی گئیں اگر والا کا کہنا ہے کہ ان رسوم کی ادائیگی نہایت آسان تھی جو کہ محض ایک ضابطہ کی کاروائی تھی جس کا مقصد یہ تھا کہ غیر ملکیوں کو مذہبی رسوم کے ذریعہ ہندو سماج کا حصہ بنایا جائے۔ ویسنٹ اسمتھ کا کہنا ہے بعض گونڈوں اور بھاروں نے فوجی طاقت حاصل کر نے کے بعد برہمنی مذہب کو قبول کرلیا اس طرح وہ بھی راجپوتوں میں شامل ہوگئے۔ اس طرح راجپوت برہمنی رنگ میں رنگے جاٹ اور گوجر ہیں۔ یہی وجہ ہے ہم راجپوتوں کے ظہور سے بہت پہلے صرف جاٹوں اور گوجروں کو وسطی برصغیر، راجستان گجرات سندھ میں پاتے ہیں۔ اگر کوئی راجپوت کسی جاٹ عورت سے شادی کرلے وہ جاٹ نہیں بنے گا۔ لیکن اگر وہ یا اس کی اولاد بیواہ کی دوبارہ شادی کا طریقہ اپنالے تو وہ جاٹ بن جائے گا۔ یہ مسلے کا اصل نقطہ ہے ایک راج پوت اور جاٹ میں صرف بیواہ کی دوسری شادی کا ہے۔ بیواہ کی شادی ہر دور میں رہی ہے۔ لیکن راجپوتوں کو براہمنوں کے غلط، غیر اخلاقی اور غیر منصفیانہ نظریات کے تحت اس بارے میں سننا بھی گوارہ نہ تھا۔ موجودہ دور میں پنجاب میں ان کی جاٹ اور راجپوتوں کی تقسیم بہت الجھی ہوئی ہے، ابسن کا کہنا ہے کہ پنجاب کے بڑے قبیلے راجپوت کہلاتے ہیں جب کہ ان کی شاخیں خود کو جاٹ کہتی ہیں۔ بیواہ کی شادی کی وہ اہم ترین نقطہ اختلاف تھا جو کہ کوہ آبو کی قربانی کے موقعہ پر جاٹوں اور برہمنوں کا اختلاف ہوا۔ جن لوگوں نے برہمنوں کی پیش کردہ شرائط کو تسلیم کیا وہ راجپوت کہلائے۔ اس کے برعکس جنہوں نے بیواہ کی شادی کرنے پر اصرار کیا وہ ہندو مذہب میں داخل ہونے کے وجود راجپوت کہلائے۔
راجپوتوں کا عروج

سی وی ویدیا ہشٹری مید بول انڈیا میں لکھتے ہیں کہ جب بدھ مذہب کے زیر اثرہندوں میں جنگی روح ختم ہوگئی تو راجپوتوں نے موقع پاکر ملک کے مختلف حصوں پر اپنی حکومتیں قائم کرلیں۔ بقول اسمتھ کے ہرش کی وفات کے بعد سے مسلمانوں کی آمد تک یعنی اندازاً ساتویں صدی عیسویں سے لے کر بارویں صدی عیسویں تک کے زمانے کو راجپوتوں کا دور کہا جاسکتا ہے۔ مسلمانوں کی آمد کے وقت کابل سے کامروپ تک کشمیر سے کوکن تک کی تمام سلطنتیں راجپوتوں کی تھیں اور ان کے چھتیس راج کلی (شاہی خاندان) حکومت کررہے تھے۔ چندر بروے نے اس تعداد کو پہلے پہل بیان کیا اور پنڈٹ کلہیان نے ’ترنگی راج‘ میں اس تعداد کی تصدیق کی ہے۔ جیمز ٹاڈ کے بیانات سے پتہ چلتا ہے کہ ان کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے کیوں کے بعد کے ناموں میں اختلاف ہے۔ چھتیس راج کلی میں برصغیر کا پہلا تاریخی خاندان موریہ خاندان اس میں شامل ہے لیکن اس بنا پر نہیں ہے بلکہ میواڑ کے ایک قدیمی خاندان کی وجہ سے۔
ان غیر ملکی اقوام نے برہمنی مذہب اختیار کرلیا، تو ہندو پنڈتوں نے انہیں نہ صرف چھتری قرار دیا اور انہیں گوتریں دیں اور ان کا نسلی تعلق دیو مالائی شخصیات سے جوڑ دیا۔ اس طرح یہ نسلی اعتبار سے پانچ طبقات میں مستقیم ہیں۔ یعنی راجپوت پانچ طبقوں میں تقسیم ہیں جو درج ذیل ہیں۔ # سوریہ یا سورج بنسی = ان کا مورث اعلی رام چندر ہے اور تمام سورج بنسی قبائل کے شجرہ نسب رام کے لڑکوں ’لو‘ اور ’کش‘ سے ملتے ہیں۔
راجپوتوں کی نسلی تقسیم

1. چندریا یا چندر پنسی = ان کا مورث اعلیٰ ہری کرشن تھا۔ ہری کرشن کا لقب یادو تھا، جس کا ایک تلفظ جادو ہے۔ اس لئے چندر بنسی قبائل یادو کے علاوہ جادو بھی کہلاتے ہیں۔
2. اگنی کل یا آگ بنسی = روایات کے مطابق برہمنوں نے کوہ آبو پر ایک اگنی کنڈ (آگ کے الاؤ) سے دیوتاؤں کی مدد سے پیدا کیا تھا
3. ناگ بنسی یا تکشک = ہند آریائی میں تکشک سانپ کو کہتے ہیں اور یہ اقوام کا دعویٰ ہے کہ یہ ناگ کی نسل سے ہیں۔
4. جٹ یا جاٹ = جٹوں کا راجپوتوں میں شمار نہیں ہوتا ہے۔ تاہم انہیں چھتیس راج کلی میں شمار کیا جاتا ہے۔ ایک کہانی کے مطابق جٹ قوم نے شیو دیوتا کے بالوں سے جنم لیا تھا۔ قابل ذکر بات یہ جت
بھی لمبے لمبے بال رکھتے تھے۔ ان پنچوں طبقات میں بزرگ بالترتیب سوریہ، چندو، آگ بنسی، ناگ بنسی اور جاٹ آتے ہیں۔ راجپوتوں کے اپنے بیشمار جغعرفیائی مساکن اور متفرق ساکھاؤں میں اور گوتوں کی وجہ سے ان کی اتنی شاخیں ہوگئیں کے شمار محال ہے۔ یہ قبائل کے علاوہ خاندانوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ ان خاندانوں کے علاوہ چھوٹے چھوٹے گروہ جو اپنے کو مستقل گروہ قرار دیتے تھے۔ اس طرح راجپوت سیکڑوں نہیں ہزاروں گروہ میں بٹے گئے ہیں۔
راجپوتوں کا کردار

ایشوری پرشاد کا کہنا ہے، کہ راجپوتوں نے جنگ کو اپنا پیشہ بنا رکھا تھا اور نظم و نسق کے بلند اور شریفانہ فرائض سے غافل ہوگئے تھے۔ جس کی بجاآوری نے اشوک و ہرش کو غیر فانی بنا دیا تھا۔ کوئی ایسی تحریری شہادت موجود نہیں ہے کہ جس سے نظم و نسق و حکومت کے دائرے میں راجپوتوں کے کارناموں کا اظہار ہوا ہو۔ ان کی پوری تاریخ قبائلی جنگ و پیکار کا ایک طویل سلسلہ ہے۔ یہی وجہ ہے وہ بیرونی حملہ آوروں کا مقابلہ نہیں کرسکے اور انہیں پسپا ہوا پڑا اور ان کی طاقت کو ذوال آگیا۔ کبر و نخوت ان کی بربادی کا سبب بنی، ذات پارت کی قیود سے باہمی نفاق اور حسد و کینہ کی پرورش ہوئی۔ اس لئے ان کی معاشی طاقت کمزور ہوگئی تھی۔ اس لئے ان کا نظام حکومت جاگیر ادرانہ تھا۔ یہ سیاسی اعتبار سے متحد نہیں تھے۔ اس لئے وہ بیرونی حملہ آوروں کے سامنے سر جھکانے پر مجبور ہوگئے۔ سی وی ویدیا لکھتے ہیں کہ قنوج اور بنگال کے سوا راجپوت راجاؤں کو مسقل فوج رکھنے کی توفیق نہیں ہوئی۔ بعض تو ضرورتوں کے وقت فوج بھرتی کرلیا کرتے تھے اور بعض اپنے جاگیرداروں سے ان کے متوسلین کو طلب کرلیا کرتے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ عوام کو حکومتوں کے چلانے یا ان کو قائم رکھنے سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ صرف حکمران خاندان اپنے ہم قبیلہ بھائی بندوں کو ساتھ لے کر حریف سے بھڑ جاتاتھا۔ فتح پائی تو فہا، شکست کھائی تو ملک حریف کے حوالے کردیا۔ عوام کو راج کے پلٹ جانے کا احساس نہیں ہوتا تھا۔ قنوج کے پرتیہار اور دکن کے راشتٹر کوٹ چونکہ جنگی قبیلے تھے، اس لئے ان کی فوج میں بیروی عنصر شامل نہیں تھے۔ البتہ بنگال کے پال اور سین راجاؤں نے مالوہ جنوبی گجرات کرناٹک وغیرہ کے بعض لوگوں کو بھرتی کررکھا تھا۔ کیوں کہ بنگال میں راجپوتوں کی تعداد کافی نہیں تھی اور بنگالی اس زمانے میں جنگی قوم نہیں سمجھے جاتے تھے۔ باقی ملک میں بھی راجپوت راجاؤں کے ہاں مستقبل فوج کا کوئی وجود نہیں تھا۔ شمالی برصغیر میں راجپوتوں کی ریاستیں دہلی، اجمیر، قنوج، گندھار، مالوہ اور گجرات میں قائم ہوئیں۔ دہلی اور اجمیر کی ریاست کا بانی اگرچہ اننگ پال تھا، لیکن پرٹھوی راج کو سب سے زیادہ شہرت ملی۔ قنوج میں مختلف راجپوت خاندانوں نے حکومت کی۔ گندھارا کی ریاست کے حکمرانوں میں جے پال اور انند پال زیادہ مشہور ہوئے۔ جے چند راٹھور نے کافی نام پیدا کیا۔ مالوہ میں پڑھیار خاندان کی حکومت تھی۔ اس خاندان کا راجہ بھوج بحثیت قدردان علم بہت مشہور ہوا۔ وہ خود عالم اور شاعر تھا۔ گجرات بندھیل کھنڈ اور بنگال میں مختلف خاندانوں نے حکومت کی۔ میواڑ کی ریاست میں بھی مشہور راجہ گزرے ہیں۔ بالائی دکن کے زیریں (جنوبی علاقے) چولا، چیرا اور پانڈیا کی ریاستیں قائم ہوئیں۔
راجپوتوں کے خصائص

راجپوتوں نے اگرچہ اپتدا میں مسلمانوں کے خلاف کامیاب دفاع کیا اور مسلمانوں کو آگے بڑھنے سے روکا۔ اور مسلمانوں کے خلاف یہ باز اوقات متحد بھی ہوگئے۔ خاص کر محمود غزنوی کے خلاف جے پال کی سردگی میں، محمد غوری کے خلاف پرٹھوی راج چوہان کی سردگی میں اور بابر کے خلاف رانا سنگا کی سردگی میں۔ مگر یہ وقتی وفاق تھا جو صرف جنگ تک محدود رہا اور جنگ کے بعد ان کے درمیان وہی نفاق، پیکار اور جنگ کا سلسلہ جاری رہا۔
راجپوت آج بھی اپنی بہادری کی وجہ سے یاد کئے جاتے ہیں۔ شجاعت اوردلاوری میں ہند کی اقوام میں کوئی ان سا پیدا نہیں ہوا ہے۔ راجپوت اپنی بات کے پکے، تیغ زنی کے ماہر اور اعلیٰ قسم کے شہسوار تھے۔ اپنی آن بچانے کے لئے جان کی بازی لگادیتے تھے۔ راجپوتوں نے اپنی خوبیوں کی بدولت کافی عرصہ (ساتویں صدی عیسوی تا بارویں صدی عیسوی) تک برصغیر میں حکومت کی اور ایک تہذیب قائم کی۔ لیکن یہ اپنی بالاالذکر برائیوں کی بدولت ان کی طاقت کو ذوال آگیا اور انہیں بیرونی حملہ آوروں کے مقابلے میں پسپا ہونا پڑا۔ راجپوت نہ صرف میدان جنگ میں جوہر دکھاتے تھے، بلکہ عمدہ انسان اور اعلیٰ میزبان تھے۔ مہمان نواز اور سخاوت کا جذبہ ان میں موجود تھا۔ راجپوت آرٹ و ادب اور موسیقی کے دلدادہ تھے۔ راجپوت مصوری کی اپنی انفرادیت ہوتی تھی۔ یہی وجہ ہے مصوری کا ایک اسکول وجود میں آیا۔ ہر راجہ کے دربار میں ایک نغمہ سرا ضرور ہوتا تھا، جو خاندانی عظمت کے گیت مرتب کرتا تھا۔ ان کی معاشرتی زندگی اچھی ہوتی تھی۔ اگرچہ ان میں بچپن میں شادی کا رواج تھا، لیکن اعلیٰ خاندان کی لڑکیاں جب جوان ہوتی تھیں تو اپنی پسند کی شادی کرتی تھیں۔ راجپوت عورتیں اپنی پاک دامنی اور عضمت پر جابجا طور پر ناز کرسکتی تھیں۔ ستی اور جوہر کی رسم اس جذبے کی ترجمانی کرتی تھی۔ جب کسی عورت کا شوہر کا مرجاتا تو وہ اپنے شوہر کے ساتھ آگ میں جل جانا پسند کرتی تھیں۔ اس طرح کسی جنگ میں ناکامی کے خدشے کے بعد راجپوت اپنی عورتوں کو قتل کرکے میدان جنگ میں دیوانہ وار کود جایا کرتے تھے۔ (انوار ہاشمی، تاریخ پاک و ہند۔ ۷۱) ایک عجیب رسم شادی کی تھی وہ شادی اپنے قبیلے یا ہم نسلوں میں نہیں کرتے تھے۔ بلکہ اس کے لئے ضروری تھا کہ شادی جس سے کی جاتی تھی ان کے درمیان پدری سلسلہ نہ ہو۔ راجپوت رانا، راؤ، راول، راجہ اور راجن وغیرہ لائقہ استعمال کرتے ہیں،ان تمام کلمات کے معنی راج کرنے والے۔ مسلمانوں میں سے مغلوں نے راجپوتوں کے جنگی جذبہ سے فائدہ اٹھایا اور راجپوتوں کو اپنے لشکر میں بھرتی کثرت سے بھرتی کیا۔ مغلوں کی اکثر فتوحات راجپوتوں کی رہیں منت تھیں۔ جہانگیر اجمیر کے بارے میں لکھتا ہے کہ ضرورت پڑنے پر یہاں سے پجاس ہزار سوار اور تین لاکھ پیادے باآسانی حاصل ہوسکتے ہیں۔
راجپوتوں کا مذہب

راجپوتوں کا سب سے بڑا دیوتا سورج تھا۔ وہ اس کی پرستش کرتے اور اس کو راضی رکھنے کی کوشش کرتے ہیں، اور اس کے نام پر اشو مید (گھوڑے کی قربانی) کرتے تھے اور اسی کے نام پر لڑتے تھے اور جان دیتے تھے۔ وہ اسے سوریہ کہتے تھے۔
ما خوذ آزاد دائرۃ المعارف وکی پیڈیا